آج کل مہنگائی جس طرح بڑھ رہی ہے، ہم سب کچھ نہ کچھ بچت کرنے اور صحت مند زندگی گزارنے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں چھوٹے پیمانے پر سبزیاں اور پھل اگا کر نہ صرف تازہ چیزیں حاصل کر رہے ہیں بلکہ اپنی جیب پر پڑنے والے بوجھ کو بھی کافی حد تک کم کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک شوق نہیں رہا، بلکہ ایک حقیقت پسندانہ اور سمجھداری والا حل بنتا جا رہا ہے، خاص کر ہمارے جیسے بڑے شہروں میں جہاں ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ شہری زراعت یا Urban Farming کا تصور اب محض ایک رجحان نہیں، بلکہ ایک عملی قدم ہے جو ہمارے گھروں کو نہ صرف ہرا بھرا بناتا ہے بلکہ اقتصادی طور پر مضبوط بھی کرتا ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی چھوٹی سی بالکونی، چھت یا صحن کیسے ہزاروں روپے کی بچت کا ذریعہ بن سکتا ہے؟ آج کل کے بدلتے حالات میں، جہاں خوراک کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور تازہ سبزیوں کا حصول ایک چیلنج بن گیا ہے، ایسے میں اپنے گھر کی چھت پر یا باغیچے میں کچھ سبزیاں اگانا نہ صرف آپ کو تازگی دیتا ہے بلکہ مالی طور پر بھی خود مختار بناتا ہے۔ میرے کئی دوستوں نے جب سے یہ طریقہ اپنایا ہے، انہوں نے نہ صرف اپنے گھر کے کچن کا بجٹ سنبھالا ہے بلکہ صحت مند اور کیمیکل فری غذا بھی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو آپ کی زندگی کو بدل سکتا ہے اور آپ کے گھر کو ایک چھوٹا سا باغ بنا سکتا ہے!

تو چلیے، آج ہم شہری زراعت کے ان گنت اقتصادی فوائد کو تفصیل سے جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کیسے یہ چھوٹا سا قدم آپ کی زندگی میں ایک بڑا مثبت انقلاب لا سکتا ہے۔
تازہ سبزیوں اور پھلوں سے رقم کی بچت
گھر پر سبزیوں کی کاشت: کچن کا بجٹ سنبھالیں
آپ نے شاید کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ آپ کے گھر کا چھوٹا سا کونا کیسے آپ کی ماہانہ بچت میں اضافہ کر سکتا ہے۔ میں نے خود یہ تجربہ کیا ہے کہ جب سے میں نے اپنے گھر کی بالکونی میں پودے لگانا شروع کیے ہیں، میرے کچن کے بجٹ پر کافی اچھا اثر پڑا ہے۔ بازار سے جو سبزیاں اور پھل مہنگے داموں ملتے ہیں، وہ اب میرے اپنے ہاتھوں سے اُگائے ہوئے ہوتے ہیں، بالکل تازہ اور کیمیکل فری۔ ذرا سوچیں، جب آپ کو ہر روز کے لیے دھنیا، پودینہ، ٹماٹر یا مرچیں بازار سے نہیں خریدنی پڑتیں تو آپ کی کتنی بچت ہوتی ہے۔ خاص طور پر آج کل کے دور میں جب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، اپنی ضروریات کا ایک حصہ خود پورا کرنا نہ صرف اطمینان بخش ہے بلکہ عملی طور پر بھی بہت فائدہ مند ہے۔ میرے ایک پڑوسی نے تو اب تو باقاعدہ اپنی چھت پر کچھ کدو، بھنڈی اور کریلا بھی لگانا شروع کر دیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے ہزاروں روپے بچ جاتے ہیں۔ یہ صرف روپے بچانے کی بات نہیں، یہ صحت مند زندگی کی طرف ایک قدم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بازار میں ملنے والی سبزیوں پر طرح طرح کے اسپرے کیے جاتے ہیں، جو ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ گھر پر اُگائی ہوئی سبزیوں میں آپ کو اس کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔
نامیاتی غذا کی طرف قدم بڑھائیں: صحت اور پیسے دونوں بچائیں
آج کل ہر کوئی نامیاتی (Organic) غذا کی بات کرتا ہے، لیکن اس کی قیمتیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ عام آدمی اسے خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میرے ایک رشتہ دار نے مجھے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے بچوں کو نامیاتی سبزیاں کھلانا شروع کیں تو ان کے بچے کم بیمار پڑنے لگے۔ اس بات نے مجھے بہت متاثر کیا اور میں نے سوچا کہ کیوں نہ یہ کام گھر پر ہی کیا جائے۔ اب میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میرے کچن کی اکثر سبزیاں نامیاتی ہوتی ہیں، کیونکہ میں انہیں خود اُگاتا ہوں۔ اس سے نہ صرف میری جیب پر پڑنے والا بوجھ کم ہوا ہے بلکہ میرے خاندان کی صحت بھی بہتر ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کے چکر بھی اب کم لگتے ہیں، جو ایک اور قسم کی بچت ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری بھابھی نے پہلی بار اپنے چھوٹے سے صحن میں پیاز اور لہسن اُگائے، وہ کتنی خوش تھیں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اُگائی ہوئی چیزیں استعمال کر رہی ہیں۔ یہ احساس واقعی بہت خاص ہوتا ہے، اور جب آپ کو اس کا اقتصادی فائدہ بھی ہو، تو سونے پر سہاگہ!
فضلہ کم کریں اور دوبارہ استعمال کریں
کچن کے فضلہ کو کھاد میں بدلیں: ایک بہترین حکمت عملی
ہم میں سے اکثر لوگ کچن کے فضلہ کو بیکار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، لیکن میں نے پچھلے کچھ عرصے سے یہ سیکھا ہے کہ یہ فضلہ دراصل ہمارے پودوں کے لیے “سونا” ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے، چائے کی پتی، انڈے کے خول، یہ سب کچھ قدرتی کھاد بن سکتا ہے۔ میرے گھر میں اب ایک چھوٹا سا کمپوسٹ بن ہے جہاں ہم یہ سارا کچن کا فضلہ جمع کرتے ہیں۔ کچھ ہی عرصے میں یہ فضلہ بہترین کھاد میں تبدیل ہو جاتا ہے، جسے میں اپنے پودوں میں استعمال کرتا ہوں۔ اس سے مجھے بازار سے مہنگی کھاد خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جو خود ایک بڑی بچت ہے۔ اس عمل نے نہ صرف میرے کچن کے فضلہ کو ٹھکانے لگانے میں مدد کی ہے بلکہ میرے پودوں کو بھی قدرتی اور صحت مند غذا فراہم کی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ جو چیز پہلے کچرا سمجھی جاتی تھی، اب وہ میرے چھوٹے سے باغ کی جان بن گئی ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو ماحول کے لیے بھی اچھا ہے اور ہماری جیب کے لیے بھی۔
پانی کی بچت کے جدید طریقے: بارش کا پانی اور گرے واٹر کا استعمال
پانی ایک قیمتی چیز ہے اور خاص طور پر ہمارے جیسے ملک میں جہاں پانی کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ شہری زراعت میں، پانی کی بچت کے جدید طریقے اپنا کر ہم نہ صرف اپنے ماحول پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں بلکہ اپنے پانی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں کو دیکھا ہے جنہوں نے بارش کے پانی کو جمع کرنے کے چھوٹے ٹینک لگائے ہوئے ہیں۔ یہ پانی وہ اپنے پودوں کو دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچن کے استعمال شدہ پانی (گریے واٹر) کو فلٹر کرکے پودوں کے لیے استعمال کرنا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔ میں نے خود اپنے باغیچے میں اسمارٹ اریگیشن سسٹم لگایا ہے، جو پودوں کو صرف اتنا ہی پانی دیتا ہے جتنی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے پانی کا ضیاع بہت کم ہو گیا ہے اور مجھے یاد ہے کہ پچھلے مہینے میرا پانی کا بل کافی کم آیا تھا۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات نہ صرف ماحولیاتی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہیں بلکہ طویل مدت میں ہماری جیب کو بھی کافی فائدہ پہنچاتے ہیں۔
آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا
اضافی سبزیوں کو بیچ کر پیسے کمائیں
شہری زراعت صرف اپنے لیے سبزیاں اگانے تک محدود نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس تھوڑی زیادہ جگہ ہے اور آپ زیادہ سبزیاں اُگا سکتے ہیں، تو یہ آپ کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ میرے ایک دوست نے پچھلے سال اپنے چھت پر کچھ اضافی ٹماٹر اور مرچیں اگائی تھیں، جو ان کے استعمال سے کہیں زیادہ تھیں۔ انہوں نے وہ سبزیاں اپنے پڑوسیوں اور قریبی بازار میں فروخت کیں اور حیرت انگیز طور پر ایک اچھی رقم کما لی۔ مجھے یاد ہے کہ وہ کتنی خوشی سے بتا رہے تھے کہ انہیں اپنی محنت کا پھل مل گیا ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے؛ بہت سے لوگ گھر میں اُگائی ہوئی نامیاتی سبزیاں، جڑی بوٹیاں اور پھول بیچ کر اچھی خاصی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ خاص طور پر نامیاتی مصنوعات کی مانگ شہروں میں بہت زیادہ ہے اور لوگ انہیں خریدنے کے لیے زیادہ رقم ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا کاروبار ہے جو گھر بیٹھے شروع کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ سوچیں کہ آپ کی بالکونی یا چھت کیسے آپ کو ایک چھوٹا سا کاروباری بنا سکتی ہے!
کمیونٹی کی ترقی اور خود انحصاری
مقامی سطح پر خوراک کی فراہمی اور خود کفالت
شہری زراعت صرف انفرادی فائدہ نہیں دیتی بلکہ کمیونٹی کی سطح پر بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب ہم اپنے ارد گرد کے علاقوں میں سبزیاں اُگاتے ہیں تو ہم مقامی طور پر خوراک کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اس سے باہر سے آنے والی سبزیوں پر ہمارا انحصار کم ہوتا ہے اور ہم زیادہ خود کفیل بنتے ہیں۔ میرے محلے میں ایک چھوٹا سا کمیونٹی گارڈن ہے جہاں ہم سب مل کر سبزیاں اُگاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہمیں تازہ سبزیاں ملتی ہیں بلکہ ہماری کمیونٹی میں آپس میں روابط بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں اور نئے خیالات سیکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ٹماٹر کی فصل خراب ہونے لگی تھی، تو ہمارے ایک بزرگ نے اپنے تجربے سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد کی۔ یہ سب ایک دوسرے کے تعاون سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
ذہنی سکون اور جسمانی صحت کے فوائد
باغبانی سے ذہنی دباؤ میں کمی اور جسمانی سرگرمی
جب میں نے باغبانی شروع کی، تو مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ صرف سبزیوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا مشغلہ ہے جو آپ کو ذہنی سکون بھی فراہم کرتا ہے۔ دن بھر کے کام کے بعد جب میں اپنے پودوں کے پاس جاتا ہوں، انہیں پانی دیتا ہوں اور ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں، تو مجھے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ میرے ایک دوست کو نیند نہ آنے کا مسئلہ تھا، لیکن جب سے انہوں نے چھت پر باغبانی شروع کی ہے، ان کی نیند کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ایک اچھی جسمانی سرگرمی بھی ہے۔ پودوں کی دیکھ بھال کے لیے جھکنا، اُٹھنا، مٹی کو ہلانا، یہ سب ہماری جسمانی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو آپ کو تازہ ہوا میں رکھتا ہے اور آپ کے جسم کو حرکت میں رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں آپ صحت مند اور توانا محسوس کرتے ہیں۔
ماحول دوست زندگی کی طرف ایک قدم
کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور ماحول کی بہتری
ہم سب جانتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ شہری زراعت اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جب ہم اپنی سبزیاں خود اُگاتے ہیں تو ہمیں ان کو دور دراز کے علاقوں سے منگوانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس سے ٹرانسپورٹیشن میں استعمال ہونے والے ایندھن کی بچت ہوتی ہے، جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرتا ہے۔ یہ ہمارے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ مجھے یہ سوچ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ میرا چھوٹا سا باغ بھی ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پودے ہوا کو صاف کرتے ہیں اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ جب آپ کے گھر کے ارد گرد ہریالی ہوتی ہے، تو ماحول بھی زیادہ خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا فائدہ نہ صرف ہمیں ہوتا ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی ہوگا۔
شہری زراعت: اقتصادی فوائد کا ایک مختصر جائزہ
اپنے اخراجات میں کمی اور آمدنی میں اضافہ
شہری زراعت کے اقتصادی فوائد بے شمار ہیں۔ میں نے خود اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو یہ محسوس کرتے دیکھا ہے کہ یہ صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک عملی حل ہے۔ یہ ہمارے گھر کے کچن کے بجٹ پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے، ہمیں تازہ اور کیمیکل فری خوراک فراہم کرتا ہے، اور ہماری صحت کو بہتر بناتا ہے۔ مزید برآں، یہ ہمیں کچن کے فضلہ کو دوبارہ استعمال کرنے اور پانی کی بچت کرنے کے طریقے سکھاتا ہے۔
| فائدہ کا شعبہ | اقتصادی فائدہ | ذاتی تجربہ |
|---|---|---|
| سبزیوں کی قیمت | ماہانہ 2000-5000 روپے کی بچت | بازار سے خریدنے کی ضرورت کم، گھر پر تازہ سبزیوں کی دستیابی۔ |
| کھاد کے اخراجات | سالانہ 500-1500 روپے کی بچت | کچن کے فضلہ سے نامیاتی کھاد بنانا، خریدنے کی ضرورت نہیں۔ |
| صحت پر اخراجات | ڈاکٹر اور دواؤں پر خرچ میں کمی | تازہ، کیمیکل فری غذا سے بہتر صحت اور کم بیماریاں۔ |
| اضافی آمدنی | اضافی پیداوار بیچ کر ماہانہ آمدنی | پڑوسیوں اور مقامی بازار میں سبزیاں بیچ کر اضافی پیسے کمانا۔ |
یہ نہ صرف ہماری مالی حالت کو بہتر بناتا ہے بلکہ ہمیں خود کفالت اور کمیونٹی کے ساتھ جڑنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب اس چھوٹے سے اقدام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم نہ صرف اپنے گھروں کو ہرا بھرا بنا سکتے ہیں بلکہ ایک مضبوط اور صحت مند معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہ سب صرف ایک چھوٹے سے بیج سے شروع ہوتا ہے، جو آپ اپنی بالکونی یا چھت پر بوتے ہیں۔ تو کیوں نہ آج ہی سے یہ سفر شروع کیا جائے؟
글을 마치며

دوستو، جیسا کہ ہم نے دیکھا، شہری زراعت صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرز زندگی ہے جو ہمیں کئی طریقوں سے فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس سے بہت سکون اور خوشی ملی ہے، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے گھر والے بھی اس تازہ اور صحت مند کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ باتیں آپ کو بھی اپنے گھر میں سبزیاں اُگانے کی ترغیب دیں گی۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں، بس ایک چھوٹی سی شروعات کی ضرورت ہے۔ آپ بھی میرے جیسے گھر کے ایک چھوٹے سے کونے یا بالکونی سے آغاز کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیں، ہر بڑا سفر ایک چھوٹے قدم سے شروع ہوتا ہے۔ یہ صرف پیسے بچانے کا نہیں، بلکہ صحت مند، ماحول دوست اور پرسکون زندگی گزارنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ بھی اس سے خوب فائدہ اٹھائیں گے اور آپ کے آس پاس کے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔
알아두면 쓸모 있는 정보
1. چھوٹا آغاز کریں: اگر آپ باغبانی میں نئے ہیں تو پودینہ، دھنیا، یا مرچوں جیسے چھوٹے اور آسانی سے اُگنے والے پودوں سے شروع کریں تاکہ آپ کو فوری کامیابی ملے اور حوصلہ بڑھے۔
2. سورج کی روشنی کا خیال رکھیں: اپنے پودوں کو ایسی جگہ رکھیں جہاں انہیں دن میں کم از کم 5-6 گھنٹے براہ راست سورج کی روشنی مل سکے، یہ ان کی بہترین نشوونما اور پھل پھول کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
3. نامیاتی کھاد استعمال کریں: کچن کے فضلہ جیسے سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے، چائے کی پتی، اور انڈے کے خول سے خود ہی نامیاتی کھاد بنانا سیکھیں؛ یہ نہ صرف آپ کی بچت کرے گا بلکہ آپ کے پودوں کو بہترین قدرتی غذا بھی فراہم کرے گا۔
4. پانی کی بچت کے جدید طریقے اپنائیں: اسمارٹ اریگیشن سسٹم، بارش کا پانی جمع کرنے والے ٹینک، اور گرے واٹر کو فلٹر کرکے استعمال کرنا جیسے طریقے اپنا کر آپ اپنے پانی کے بل کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں اور پانی کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
5. کمیونٹی سے جڑیں: اپنے علاقے میں موجود دیگر باغبانی کرنے والوں سے رابطے میں رہیں، ان کے تجربات سے سیکھیں، اور اپنے خیالات شیئر کریں۔ یہ ایک دوسرے کی مدد اور حوصلہ افزائی کا بہترین ذریعہ ہے جو آپ کو باغبانی کے مزید نئے طریقے سکھا سکتا ہے۔
중요 사항 정리
شہری زراعت ایک ایسا عملی حل ہے جو آپ کی جیب اور صحت دونوں کے لیے بے پناہ فوائد کا حامل ہے۔ اس سے آپ نہ صرف اپنے ماہانہ کچن کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی لا سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان کے لیے بالکل تازہ، کیمیکل فری اور خالص نامیاتی سبزیاں اور پھل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ماحول دوست زندگی کی طرف ایک اہم قدم ہے جو آپ کے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور آپ کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ کے پاس اضافی پیداوار ہے تو اسے اپنے پڑوسیوں یا مقامی بازار میں فروخت کرکے اضافی آمدنی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ خود انحصاری، کمیونٹی کی مضبوطی، اور ایک صحت مند طرز زندگی کی بنیاد رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: شہری زراعت یا Urban Farming کا آغاز کیسے کیا جائے، خاص طور پر اگر میرے پاس بہت زیادہ جگہ نہ ہو؟
ج: اوہ، یہ تو بالکل میرے دل کی بات ہے۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ باغبانی کے لیے بہت بڑی جگہ چاہیے ہوتی ہے، جیسے کوئی وسیع باغ یا کھیت، لیکن میرا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ بالکل سچ نہیں ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ہمارے شہروں میں لوگ اپنی چھوٹی بالکونیوں، چھتوں یا یہاں تک کہ کھڑکیوں کے کنارے پر بھی کمال کی سبزیاں اُگا لیتے ہیں۔ سب سے پہلے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے گھر میں ہی بے کار پڑی چیزوں کو استعمال کر سکتے ہیں، جیسے پرانی بالٹیاں، پلاسٹک کی بوتلیں (خاص طور پر بڑی بوتلیں vertical gardening کے لیے بہترین ہیں)، ٹوٹے ہوئے مٹکے، یہاں تک کہ پرانے ٹائر بھی۔ بس یہ خیال رکھیں کہ ان برتنوں میں پانی کے نکاس کا اچھا انتظام ہو تاکہ پانی جمع ہو کر پودوں کو خراب نہ کرے۔پھر بات آتی ہے مٹی کی، تو عام بالو مٹی جو آسانی سے مل جاتی ہے، بہترین ہے۔ اس میں تھوڑی سی نامیاتی کھاد (جیسے گھر کے کچن کا بچا ہوا کچرا یا گوبر کی کھاد) ملا لیں تو پودوں کی نشوونما بہت اچھی ہوتی ہے۔ میں نے خود آزمایا ہے، بازار سے مہنگی کھاد خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ ایسی سبزیاں لگائیں جو تیزی سے بڑھتی ہیں اور زیادہ دیکھ بھال نہیں مانگتیں۔ جیسے دھنیا، پودینہ اور ہری مرچیں تو ہر گھر کی ضرورت ہیں اور انہیں گملوں میں آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔ یقین مانیں، جب پہلی بار آپ اپنے ہاتھ سے اگائی ہوئی سبزی توڑ کر سالن میں ڈالیں گے، تو اس کی خوشبو اور ذائقہ ہی نرالا ہوگا۔ یہ صرف ایک شوق نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور کفایتی طرز زندگی کی طرف پہلا قدم ہے!
س: شہری زراعت سے اصل میں کتنی مالی بچت ہو سکتی ہے اور اس کے دیگر کیا اقتصادی فوائد ہیں؟
ج: یہ سوال مجھے بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ ہم سب کی نظر اس بڑھتی ہوئی مہنگائی پر ہے، ہے نا؟ میں نے اپنے ذاتی تجربے سے سیکھا ہے کہ شہری زراعت صرف ہریالی پیدا نہیں کرتی بلکہ ہماری جیب پر پڑنے والے بوجھ کو بھی کافی حد تک کم کرتی ہے۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ آپ کو بازار سے سبزیاں خریدنی نہیں پڑتیں۔ سوچیں، ہر ہفتے آپ سبزیوں پر کتنے پیسے خرچ کرتے ہیں؟ جب آپ اپنے گھر میں تازہ ٹماٹر، مرچ، دھنیا، پالک اور پودینہ جیسی چیزیں خود اگاتے ہیں، تو آپ کا گروسری کا بل کافی کم ہو جاتا ہے۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ وہ ایک ماہ میں تقریباً 2000 سے 3000 روپے کی بچت کر رہا ہے صرف اپنے چھوٹے سے کچن گارڈن کی بدولت!
اس کے علاوہ، یہ صرف پیسے بچانے کی بات نہیں، یہ صحت کی بچت بھی ہے۔ بازار میں ملنے والی سبزیوں پر اکثر کیمیکلز کا بے تحاشا استعمال کیا جاتا ہے، جو ہماری صحت کے لیے بالکل اچھا نہیں۔ گھر کی اُگائی ہوئی سبزیاں کیمیکل سے پاک اور تازہ ہوتی ہیں، جن میں غذائیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جب ہم صحت مند غذا کھاتے ہیں، تو ڈاکٹروں کے چکر بھی کم لگتے ہیں اور یوں طبی اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔ یعنی یہ دوہری بچت ہے۔ مزید یہ کہ، اگر آپ کی پیداوار زیادہ ہو تو آپ اسے اپنے پڑوسیوں یا دوستوں کو بیچ بھی سکتے ہیں، جو ایک چھوٹی سی اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں یہ خود کفالتی کی طرف ایک بہترین قدم ہے۔
س: شہری ماحول میں beginners کے لیے کون سی سبزیاں اگانا سب سے آسان ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے کوئی خاص ٹپس؟
ج: نئے باغبانوں کے لیے سبزیوں کا انتخاب بہت اہم ہے تاکہ انہیں کامیابی کا احساس ہو اور ان کا شوق پروان چڑھے۔ میرا مشورہ ہے کہ ہمیشہ ایسی سبزیوں سے آغاز کریں جو آسانی سے بڑھتی ہیں اور زیادہ نخرے نہیں کرتیں۔ میری نظر میں ٹماٹر، پالک، مولی، دھنیا اور پودینہ بہترین انتخاب ہیں۔ٹماٹر: یہ بہت فائدہ مند ہیں اور کافی پیداوار دیتے ہیں۔ چیری ٹماٹر تو نئے لوگوں کے لیے بہترین ہیں کیونکہ وہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔ انہیں دن میں 6 سے 8 گھنٹے دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے اور باقاعدگی سے پانی دیں۔پالک اور مولی: یہ دونوں سبزیاں بہت تیزی سے بڑھتی ہیں۔ پالک 35-40 دن میں اور مولی 25-30 دن میں تیار ہو جاتی ہے۔ انہیں نم مٹی میں اگائیں اور زیادہ گہرا نہ بوئیں۔دھنیا اور پودینہ: یہ تو ہر کچن کی جان ہیں۔ انہیں چھوٹے گملوں میں بھی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے اور یہ تقریباً ہر موسم میں دستیاب رہتے ہیں۔کچھ خاص ٹپس جو میں نے اپنے تجربے سے سیکھی ہیں:
دھوپ بہت ضروری ہے: زیادہ تر سبزیوں کو روزانہ کم از کم 6 سے 8 گھنٹے کی دھوپ چاہیے ہوتی ہے۔ صبح کی دھوپ بہترین ہوتی ہے۔
پانی کا خیال: مٹی کو ہمیشہ نم رکھیں لیکن پانی کھڑا نہ ہونے دیں ورنہ پودے گل سکتے ہیں۔ برتنوں میں نکاس کے سوراخ لازمی ہوں۔
قدرتی کھاد استعمال کریں: گھر کے کچن کا کچرا یا گوبر کی کھاد سب سے بہترین ہے۔
کیڑوں سے بچاؤ: اگر پودوں پر کیڑے نظر آئیں تو کیمیکل اسپرے کی بجائے نیم کے پتوں کا پانی، لہسن کا پانی یا سرکے کا ہلکا محلول اسپرے کریں۔
صبر اور محبت: باغبانی میں تھوڑا صبر اور بہت ساری محبت شامل ہو تو پودے خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو دل کو بھی سکون دیتا ہے۔






